👁️ سفید موتیا (Cataract) — خاموشی سے نظر دھندلا دینے والی بیماری

Dr. Abdullah Younis

2/22/20261 منٹ پڑھیں

👁️ سفید موتیا (Cataract) — خاموشی سے نظر دھندلا دینے والی بیماری
کاوش:ڈاکٹر محمد عبداللہ یونس،آئی اسپیشلسٹ،بہاولنگر

سفید موتیا آنکھ کی ایک نہایت عام مگر قابلِ علاج بیماری ہے، جس میں آنکھ کا قدرتی عدسہ (Lens) شفاف رہنے کے بجائے دھندلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روشنی صحیح طرح اندر نہیں پہنچ پاتی اور نظر بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ بینائی کو شدید متاثر کر سکتی ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید سرجری کے ذریعے اس کا مؤثر اور محفوظ علاج ممکن ہے۔

سفید موتیا کیا ہے؟

طبی زبان میں اسے Cataract کہا جاتا ہے۔

آنکھ کے اندر موجود شفاف عدسہ روشنی کو فوکس کر کے صاف تصویر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ عدسہ کسی وجہ سے دھندلا ہو جائے تو مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دھند، دھوئیں یا میلی شیشے کے پار سے دیکھ رہا ہو۔

سفید موتیا کی علامات:-

سفید موتیا عموماً آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، اسی لیے ابتدا میں مریض کو واضح احساس نہیں ہوتا۔ عام علامات درج ذیل ہیں:

1️⃣ نظر کا دھندلا ہونا

چیزیں واضح کے بجائے مدھم اور دھندلی نظر آتی ہیں۔

2️⃣ روشنی سے چمک یا Glare

تیز روشنی، خاص طور پر گاڑیوں کی ہیڈلائٹس، آنکھوں کو چبھتی ہیں۔

3️⃣ رات میں دیکھنے میں مشکل

نائٹ ڈرائیونگ مشکل ہو جاتی ہے۔

4️⃣ چشمے کا نمبر بار بار بدلنا

مریض کو لگتا ہے کہ شاید نمبر تبدیل ہو گیا ہے، لیکن اصل مسئلہ عدسے کی دھندلاہٹ ہوتا ہے۔

5️⃣ رنگوں کا پھیکا پڑ جانا

رنگ پہلے جیسے شوخ اور واضح محسوس نہیں ہوتے۔

6️⃣ ڈبل نظر (کبھی کبھار)

ایک آنکھ سے دوہری تصویر دکھائی دے سکتی ہے۔

سفید موتیا کی وجوہات:-

🔹 1. بڑھتی عمر

سب سے بڑی وجہ عمر کا بڑھنا ہے۔ 50 سال کے بعد اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

🔹 2. ذیابیطس (شوگر)

شوگر کے مریضوں میں سفید موتیا جلد اور زیادہ شدت سے ہو سکتا ہے۔

🔹 3. آنکھ پر چوٹ

چوٹ یا کسی حادثے کے بعد بھی موتیا بن سکتا ہے۔

🔹 4. سٹیرائیڈ ادویات کا طویل استعمال

بلا ضرورت یا لمبے عرصے تک سٹیرائیڈ لینے سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

🔹 5. سورج کی تیز روشنی (UV شعاعیں)

لمبے عرصے تک بغیر حفاظتی چشمے کے دھوپ میں رہنا۔

🔹 6. موروثی عوامل

کچھ افراد میں خاندانی رجحان بھی پایا جاتا ہے۔

کیا سفید موتیا آنکھوں میں دوائی سے ٹھیک ہو سکتا ہے؟

یہ ایک عام سوال ہے۔

❌ نہیں۔

سفید موتیا کا کوئی قطرہ، کیپسول یا دیسی نسخہ اسے ختم نہیں کر سکتا۔

جب عدسہ مکمل طور پر دھندلا ہو جائے تو اس کا واحد مؤثر علاج سرجری ہے۔

سفید موتیا کا علاج:-

جدید سرجری: محفوظ اور کامیاب طریقہ

آج کل سفید موتیا کی سرجری نہایت محفوظ اور مختصر وقت میں ہونے والا عمل ہے۔ جدید طریقوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ہے:

🔹 فیکو سرجری (Phacoemulsification)

اس میں:

ایک نہایت باریک مشین کے ذریعے دھندلا عدسہ توڑا جاتا ہے

اسے نکال کر

مصنوعی شفاف عدسہ (IOL) لگا دیا جاتا ہے

یہ عمل عموماً:

20–15 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے

ٹانکے کی ضرورت نہیں پڑتی

مریض چند گھنٹوں میں گھر جا سکتا ہے.

عدسے کا انتخاب مریض کی ضرورت اور آنکھ کی کیفیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔

سرجری کے بعد احتیاط:-

✔ آنکھ کو نہ رگڑیں

✔ ڈاکٹر کی دی ہوئی قطرے باقاعدگی سے استعمال کریں

✔ پانی اور صابن آنکھ میں جانے سے بچائیں

✔ گرد و غبار سے بچیں

✔ مقررہ فالو اپ لازمی کروائیں

اکثر مریض چند دنوں میں واضح بہتری محسوس کرتے ہیں۔

سفید موتیا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر:-

اگرچہ بڑھاپے کے موتیے کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن خطرہ کم کیا جا سکتا ہے:

☀ دھوپ میں UV پروٹیکشن والا چشمہ استعمال کریں

🍎 متوازن غذا کھائیں (سبزیاں، پھل، وٹامن A اور C)

🩺 شوگر کو کنٹرول رکھیں

🚭 سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں

👁 سالانہ آنکھوں کا معائنہ کروائیں

کن افراد کو خاص توجہ دینی چاہیے؟:-

50 سال سے زائد عمر کے افراد

شوگر کے مریض

آنکھ پر چوٹ کا شکار افراد

سٹیرائیڈ استعمال کرنے والے مریض

ان افراد کو باقاعدہ آنکھوں کا معائنہ کروانا چاہیے، چاہے کوئی واضح شکایت نہ بھی ہو۔

ایک اہم بات:-

کچھ لوگ کہتے ہیں:

“موتیا پکنے دو، پھر آپریشن کروائیں گے”

یہ ایک پرانا تصور ہے۔

آج کے دور میں:

موتیا مکمل پکنے کا انتظار ضروری نہیں

زیادہ دیر کرنے سے سرجری مشکل ہو سکتی ہے

پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

لہٰذا جب نظر متاثر ہونے لگے اور روزمرہ زندگی میں دشواری آئے تو سرجری کروا لینا بہتر ہے۔

بچوں میں سفید موتیا:-

اگرچہ کم عام ہے، مگر بچوں میں بھی پیدائشی موتیا ہو سکتا ہے۔ ایسے بچوں میں:

آنکھ میں سفیدی دکھائی دینا

بچہ آنکھ سے صحیح فوکس نہ کرے

بھینگا پن

ایسی صورت میں فوری ماہر امراض چشم سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ تاخیر مستقل کمزوری کا باعث بن سکتی ہے۔

سفید موتیا اور دیگر آنکھوں کی بیماریاں:-

کبھی کبھار سفید موتیا کے ساتھ ساتھ دیگر امراض بھی موجود ہوتے ہیں، جیسے:

گلوکوما

ریٹینا کے مسائل

ذیابیطس کی آنکھوں کی پیچیدگیاں

اس لیے مکمل آنکھوں کا معائنہ ضروری ہے تاکہ درست منصوبہ بندی کی جا سکے۔

ہمارا ہسپتال اور ہماری خدمات:-

👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد عبداللہ یونس

آئی اسپیشلسٹ

🏥 صبح: DHQ ہسپتال بہاولنگر

🌙 شام کی کلینک:

عبداللہ ہسپتال، نزد گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، بہاولنگر

📞 03007929869

🌐 www.drabdullahyounas.com

📧 salam@drabdullahyounas.com

ہم سفید موتیا کے مریضوں کے لیے فراہم کرتے ہیں:

✔ مکمل اور جدید مشینوں کے ذریعے آنکھوں کا تفصیلی معائنہ

✔ کمپیوٹرائزڈ بایومیٹری

✔ جدید فیکو سرجری

✔ اعلیٰ معیار کے مختلف اقسام کے عدسے

✔ سرجری کے بعد مکمل فالو اپ اور رہنمائی

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو نہ صرف علاج ملے بلکہ مکمل آگاہی بھی ملے، تاکہ وہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ فیصلہ کر سکے۔

اختتامی پیغام:-

سفید موتیا کوئی لاعلاج بیماری نہیں۔

یہ اندھا پن نہیں — بلکہ ایک عارضی رکاوٹ ہے جسے جدید طب نے مؤثر انداز میں حل کر لیا ہے۔

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ:

✔ علامات کو نظرانداز نہ کریں

✔ بروقت معائنہ کروائیں

✔ مستند ماہر امراض چشم سے رجوع کریں

یاد رکھیں:

صاف نظر، روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ 👁✨

اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو نظر دھندلی محسوس ہو رہی ہے تو تاخیر نہ کریں — بروقت مشورہ ہی بہترین احتیاط ہے۔