آنکھ— 7گرام کا وہ معجزہ جو پوری کائنات دکھا دیتا ہے

آنکھ— 7گرام کا وہ معجزہ جو پوری کائنات دکھا دیتا ہے *(ایک سائنسی، فطری اور ایمان افروز تحریر)* *(کوشش:ڈاکٹر محمد عبداللہ یونس،آئی اسپیشلسٹ،ڈی ایچ کیو ہاسپٹل بہاولنگر)* اللہ رب العزت نے انسان کو جس نعمت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، اُن میں سے ہر ایک اپنی ساخت، اپنی کارکردگی اور اپنے انجام میں اتنی کامل ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مگر ان نعمتوں میں سے ایک نعمت ایسی ہے جو صرف جسم کو روشن نہیں کرتی بلکہ پوری زندگی کو بصارت، فہم، شعور اور معرفت سے روشن کرتی ہے۔ وہ نعمت آنکھ ہے۔ انسان کی آنکھ صرف ایک عضو نہیں، بلکہ ایک مکمل سائنسی نظام، ایک انجینیئرڈ ماسٹر پیس، ایک کامل مشین، اور ایک ایسا معجزہ ہے جسے دیکھ کر انسان خود بخود کہہ اٹھتا ہے: ﴿فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحْسَنُ ٱلْخَـٰلِقِينَ﴾ “بڑا بابرکت ہے وہ اللہ، سب سے بہترین تخلیق کرنے والا!” یہ مضمون اسی عظیم نعمت کا تعارف ہے—آنکھ کیسے دیکھتی ہے؟ اس میں کون سی ٹیکنالوجی، کون سے سائنسی اصول اور کون سی حکمتیں اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہیں؟ اور ان سب کے پیچھے اللہ کی صفاتِ قدرت، حکمت، ربوبیت اور علم کیسے جھلکتی ہیں؟ آئیے! آنکھ کے اندر بسے ہوئے اللہ کے معجزات کا سفر شروع کریں۔ --- *1: آنکھ—ایک مختصر تعارف* انسانی آنکھ کا وزن تقریباً 7 گرام ہے، مگر اس کے اندر ایسا پیچیدہ نظام رکھا گیا ہے جسے دنیا کی کوئی لیبارٹری آج تک مکمل طور پر نقل نہیں کرسکی۔ یہی وہ عضو ہے جس کے ذریعے انسان: -رنگوں کو پہچانتا ہے -حرکات کو دیکھتا ہے -چہروں کو یاد رکھتا ہے -روشنی اور اندھیرے کے فرق کو جانتا ہے -دور کی اور نزدیک کی چیزوں کو فوکس کرتا ہے -آنسو بناتا ہے -خود کو جراثیموں سے بچاتا ہے یہ سب کام بیک وقت، بغیر رکے، بغیر وقفے، دن میں لاکھوں بار انجام پاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی کمپنی، کوئی سائنس دان، کوئی انجینیئر ایسی مشین نہیں بنا سکا جو انسانی آنکھ جتنی مضبوط، تیز، خودکار، کم خرچ، لمبی مدت چلنے والی، اور ذہانت سے بھرپور ہو۔ اگر دنیا، سائنس، اور انجینیئرنگ مل کر بھی ایک آنکھ جیسی مکمل چیز نہ بنا سکیں—تو پھر حقیقی خالق کون ہے؟ یقیناً وہی ذات جس نے فرمایا: ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ﴾ “وہ ہر مخلوق کو خوب جاننے والا ہے۔” --- *2: آنکھ کی بیرونی ساخت—کمال کی انجینیئرنگ* آنکھ کے تین بڑے حصے ہمیں باہر سے نظر آتے ہیں: 2.1: پلکیں (Eyelids) دن میں تقریباً 15,000 مرتبہ پلک جھپکتی ہے۔ یہ عمل آنکھ کو: -نمی فراہم کرتا ہے -دھول سے بچاتا ہے -بیکٹیریا سے محفوظ رکھتا ہے -زیادہ روشنی سے بچاتا ہے کیا کسی انسان نے کوئی ایسی مشین بنائی ہے جو خودبخود ہر چند ملی سیکنڈ میں خود کو صاف بھی کرے اور خود کو چکنا بھی رکھے؟ 2.2: پلکوں کے بال (Eyelashes) یہ آنکھ کا قدرتی فلٹر ہیں، جو: -90٪ نقصان دہ دھول روک لیتے ہیں -تیز ہوا کا دباؤ کم کرتے ہیں -سورج کی چبھن کم کرتے ہیں ہر پلک کا بال اپنی مخصوص لمبائی پر پہنچ کر رک جاتا ہے—نہ ایک ملی میٹر زیادہ، نہ کم۔ یہ کس کا نظام ہے؟ 2.3: سفید حصہ (Sclera) یہ ایک طاقتور حفاظتی شیلڈ ہے جو آنکھ کو مضبوطی دیتی ہے۔ انسان جتنا بھی زور لگائے، اس حصے کو آسانی سے چھید نہیں سکتا۔ --- *3: آنکھ کی اندرونی دنیا—حیرت ناک سسٹم* آنکھ کی اندر کی دنیا تو ایک الگ کائنات ہے… آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں: --- 3.1: قرنیہ (Cornea)—قدرتی لینس نمبر 1 یہ شفاف حصہ آنکھ میں آنے والی روشنی کو موڑتا ہے۔ اس کے اندر کوئی خون کی نالی نہیں، پھر بھی یہ زندہ رہتا ہے! دنیا کی کوئی شیشہ فیکٹری ایسا صاف، شفاف، بغیر دھبا اور ہمیشہ زندہ رہنے والا شیشہ نہیں بنا سکی۔ -اللہ رب العزت نے اس کو: -اینٹی بیکٹیریل بنایا -خود علاج کرنے کی صلاحیت دی -کروی شکل میں ڈیزائن کیا تاکہ روشنی درست داخل ہو یہ سب محض حادثہ تو نہیں ہو سکتا؟ --- 3.2: عدسہ (Lens)—قدرتی کیمرہ کا آٹو فوکس سسٹم کیمرے کا لینس تبدیل کرنا پڑتا ہے، مگر آنکھ کا لینس خود کو فورا” adjust کر لیتا ہے: -دور کی چیز دیکھنی ہو → لینس پتلا ہو جاتا ہے -قریب کی چیز دیکھنی ہو → لینس موٹا ہو جاتا ہے یہ پورا عمل 0.03 سیکنڈ میں ہوتا ہے۔ یہ کس نے سکھایا؟ کس نے اسے ایسا خود کار نظام عطا کیا؟ --- 3.3: آئی رس (Iris) اور پتلی (Pupil)—قدرتی لائٹ کنٹرول جیسے کیمرے میں shutter ہوتا ہے، اسی طرح آنکھ میں: -زیادہ روشنی آئے → پتلی سکڑ جاتی ہے -کم روشنی ہو → پتلی پھیل جاتی ہے یہ پورا کام اتنا تیزی سے ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی الیکٹرونک سسٹم آج بھی اس کی رفتار نہیں چھو سکا۔ --- *4: ریٹینا—قدرت کا سب سے بڑا معجزہ* ریٹینا وہ پردہ ہے جس پر تصویر بنتی ہے۔ مگر یہ عام پردہ نہیں—یہ ایک مکمل کمپیوٹر ہے۔ 4.1: فوٹو ریسپٹرز—قدرتی سینسرز ریٹینا میں دو قسم کے سیلز ہوتے ہیں: 1. Rod Cells -اندھیرے میں دیکھنے کے ماہر -بہت ہلکی روشنی بھی محسوس کر لیتے ہیں تعداد: 120 ملین (12 کروڑ) 2. Cone Cells -رنگوں کو پہچانتے ہیں -باریک چیزیں دکھاتے ہیں تعداد: 6 ملین (60 لاکھ) ان سینسرز کی حساسیت اتنی حیران کن ہے کہ اگر انسان ایک پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہو تو دور کے شہر کی ایک جلتی ہوئی موم بتی کی روشنی بھی محسوس کر سکتا ہے! دنیا کی کون سی ٹیکنالوجی اتنی حساس ہے؟ --- *5: رنگوں کی پہچان—کمالِ قدرت* انسان کے cone cells تین اقسام کے ہوتے ہیں: -سرخ رنگ پر حساس -سبز رنگ پر حساس -نیلے رنگ پر حساس یہ تین رنگ آپس میں مل کر ایک کروڑ سے زیادہ رنگ بنا لیتے ہیں! دنیا کی بہترین اسکرینز—OLED، QLED، MicroLED—بھی صرف تین رنگوں پر چلتی ہیں مگر انسان جیسی قدرت نہیں رکھتیں۔ یہ نظام کس نے بنایا؟ کیا یہ خودبخود بن سکتا تھا؟ --- *6: بصری اعصاب—اللہ کا رکھا ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ* آنکھ سے نکل کر تقریباً 10 لاکھ باریک تاریں (optic nerve fibers) دماغ تک ڈیٹا لے جاتی ہیں۔ یہ اعصاب: -فی سیکنڈ 10 ملین (1 کروڑ) سگنلز بھیج سکتے ہیں -بغیر کسی lag کے کام کرتے ہیں -نہ گرم ہوتے ہیں -نہ ڈیٹا خراب ہونے دیتے ہیں اگر دنیا اس رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرنے والی کیبل بنائے تو: -پاور چاہیے -کولنگ چاہیے -اسپیڈ کم ہو جائے -ڈیٹا corruption ہو مگر اللہ کے بنائے ہوئے اعصاب بغیر کسی بجلی، بیٹری، cooling یا maintenance کے کام کرتے ہیں۔ --- *7: دماغ کا بصری مرکز—اللہ کی عطا کردہ مصنوعی ذہانت* اگر آنکھ کی مثال کیمرے کی ہے تو دماغ کی مثال سپر کمپیوٹر کی ہے۔ آنکھ صرف تصویر بناتی ہے، مگر دماغ تصویر کو سمجھتا ہے۔ یہ کام: -پہچان -حرکت -فاصلے کا اندازہ -رنگوں کا meaning -چہرے پہچاننا -reading -writing یہ سب دماغ خود بخود، بغیر کوشش کے کرتا ہے۔ برین 0.02 سیکنڈ میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ سامنے کیا چیز ہے۔ اگر کمپیوٹر کو یہی فیصلہ کرانا ہو تو لاکھوں calculations چاہئیں۔ --- *8: دونوں آنکھوں کی ہم آہنگی—ایک اور معجزہ* دو آنکھیں ایک تصویر نہیں بناتیں—بلکہ دو الگ تصویریں بنتی ہیں۔ دماغ ان دونوں تصویروں کو: -جوڑتا ہے -صاف کرتا ہے -غلطیاں نکالتا ہے -ایک تصویر میں بدل دیتا ہے یہ عمل اتنا درست ہے کہ انسان 3D دیکھ سکتا ہے—گہرائی، فاصلہ، اونچائی سب سمجھ لیتا ہے۔ دنیا کا کوئی کیمرہ دو تصویروں کو اتنی صفائی سے نہیں جوڑ سکتا۔ --- *9: آنکھ کی خود صفائی—Aqueous Humor اور Tears* آنکھ میں دو قدرتی “فلٹرنگ فلویڈز” ہیں: 9.1: نمی (Aqueous Humor) یہ آنکھ کو: -آکسیجن دیتا ہے -خوراک دیتا ہے -بیکٹیریا مارتا ہے -فضلے صاف کرتا ہے یہ نظام اتنا محفوظ ہے کہ اس میں خرابی ہو جائے تو انسان کو glaucoma جیسی بیماری لگ جاتی ہے—جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آفتاب کی طرح روشن حکمت سے یہ سسٹم قائم ہے۔ 9.2: آنسو (Tears) آنسو صرف پانی نہیں بلکہ: -antibacterial -lubricating -cleaning agents کا مرکب ہیں اگر پلکیں windshield wiper ہیں تو آنسو اُن کا cleaning fluid۔ ایسا نظام کس انجینیئر نے بنایا؟ --- *10: آنکھ کی حرکت—انتہائی تیز موٹر سسٹم* آنکھ میں 6 پٹھے ہیں جو اسے 0.02 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں گھما سکتے ہیں۔ انسان دن میں تقریباً 2 لاکھ بار آنکھ حرکت دیتا ہے۔ یہ حرکت: -smooth ہوتی ہے -بغیر تکلیف کے ہوتی ہے -بغیر noise کے ہوتی ہے دنیا کے بہترین روبوٹ کیمرے بھی اس رفتار کو نہیں پہنچ سکے۔ --- *11: نیند کے دوران آنکھ کا نظام—قدرت کی نگہبانی* رات کو جب انسان سوتا ہے تو: -آنکھ کا درجہ حرارت control ہوتا ہے -ٹشوز regenerate ہوتے ہیں -آنکھ صاف ہوتی ہے -cornea hydrate ہوتی ہے سائنس کہتی ہے کہ اگر انسان کئی دن مستقل آنکھیں کھلی رکھے رہنے پر مجبور ہو تو آنکھ ختم ہو جائے گی۔ یہ نگہبانی کس نے رکھی؟ --- *12: ایمان افروز حقیقت—یہ سب کچھ "اتفاق" کیسے ہو سکتا ہے؟* یہاں سوال یہ نہیں کہ آنکھ کیسے بنی۔ سوال یہ ہے: کیا یہ خود بخود بن سکتی تھی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ: -12 کروڑ rod cells -60 لاکھ cone cells -10 لاکھ اعصاب -6 muscles -خودکار نمی -خودکار focus -روشنی control -دماغ کے visual centers -انگلیوں سے مضبوط سطح -آنسو کا نظام یہ سب خودبخود، بغیر کسی خالق کے پیدا ہو جائے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ: “ایک جنگل میں ہوا چلی، آگ لگی، اور اتفاق سے ایک مکمل کمپیوٹر بن گیا۔” عقل ایسا کبھی قبول نہیں کر سکتی۔ --- *13: اللہ تعالیٰ کی صفات جو آنکھ میں ظاہر ہوتی ہیں* *1. صفتِ قدرت* ہر چیز اتنی طاقت سے بنائی گئی کہ روزانہ لاکھوں بار استعمال کے باوجود خراب نہیں ہوتی۔ *2. صفتِ حکمت* جسم کے ہر حصے کے لیے بہترین جگہ، بہترین مواد اور بہترین کارکردگی۔ *3. صفتِ علم* جیسے کوئی ماہر انجینیئر ہر bolt، ہر spring، ہر chip کی جگہ جانتا ہے—اللہ تعالیٰ ہر رگ، ہر خلیہ، ہر پردے کا علم رکھتے ہیں۔ *4. صفتِ ربوبیت* آنکھ کی حفاظت، صفائی، خوراک، نمی، regeneration—سب اللہ خود کرتے ہیں۔ *5. صفتِ سمع و بصر* اللہ خود بھی دیکھتا ہے، اور انسان کو دیکھنے کی نعمت عطا فرمائی۔ --- *14: احادیث و قرآن سے بصارت کی نعمت کا ذکر* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ شکر ہے جو انسان اپنی آنکھوں کی سلامتی پر ادا کرے۔” اور ایک اور روایت میں ہے: “جو شخص صبح اٹھ کر کہے: 'الحمد للہ الذی ردّ علی روحی و عافانی فی جسدی و أذن لی بذکرہ' اس کی آنکھوں میں برکت ہوتی ہے۔” قرآن میں فرمایا: ﴿إِنَّ ٱلسَّمْعَ وَٱلْبَصَرَ وَٱلْفُؤَادَ كُلُّ أَو۟لَـٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔولًۭا﴾ “بے شک کان، آنکھ اور دل—ان سب کے بارے میں سوال ہوگا۔” اور فرمایا: ﴿أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ﴾ “کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں نہیں دیں؟” --- *15: آخرپر پیغام — آنکھ کا معجزہ اور دل کی بیداری* آنکھ کے اندر کی دنیا انسان کو حیران کر دینے کے لیے کافی ہے، مگر اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کو پہچانے۔ جب ایک معمولی کیمرہ بنانے کے لیے انجینیئروں کی پوری ٹیم چاہیے، تو اس آنکھ کو کس نے بنایا جو: -خودکار ہے -پائیدار ہے -حساس ہے -رنگ شناس ہے 3D دکھاتی ہے- -ریکارڈ کرتی ہے -صاف رہتی ہے -زندہ ہے بس یہی پیغام ہے: “جس نے ہمیں دیکھنے کی نعمت دی ہے، وہی ہمارا خالق، مالک، رب اور معبود ہے۔” اللہ ہمیں آنکھ کو صرف دنیا دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی نشانیوں کو پہچاننے اور اس سے محبت کرنے کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین.. برائے رابطہ:03007929869

Dr. Muhammad Abdullah Younas

1/7/20261 منٹ پڑھیں

A close-up of Dr. Abdullah Younas examining a patient's eye with a slit lamp in a bright clinic room.
A close-up of Dr. Abdullah Younas examining a patient's eye with a slit lamp in a bright clinic room.

Eye care